16 فروری 2011 - 20:30

بحرین میں سکیورٹی پر مامور افراد بحرینی نہیں بلکہ پاکستان، یمن، شام اور اردن کے غیر شیعہ افراد ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خونخوار بحرینی فورسز کی فائرنگ سے سینکڑوں شہید اور زخمی ہوگئے ہیں جن میں ایک دس ماہہ بچی سمیت کئی بچے بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اب تک 20 افراد شہید 3000 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں لیکن بحرین موصولہ اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں 2000 نوجوان، 400 عمر رسیدہ افراد، 250 خواتین اور 70 بچے شامل ہیں جن میں 300 افراد کی حالت نازک ہے۔ دارالحکومت میں صرف ایک اسپتال ہے جو اماراتی اور سعودی جارح دستوں کے قبضے میں ہے اور وہاں جن افراد کی حالت بہتر ہوتی ہے انہیں تفتیش کے لئے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے چنانچہ بیشتر زخمیوں کا علاج معالجہ ان کے گھروں یا گلی محلوں اور سڑکوں پر ہورہا ہے لہذا شہداء کی تعداد میں اضافے کا قوی امکان ہے۔

یادرہے کہ بحرین میں سکیورٹی پر مامور افراد بحرینی نہیں بلکہ پاکستان، یمن، شام اور اردن کے سنی مسلمان ہیں۔ ان افراد کو شہریت کے وعدے دیئے جاتے ہیں اور شہریت یقینی بنانے کے لیے ان سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ان سے مقامی شیعہ آبادی کے مقابلے میں ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور بحرین کے مقامی آبادی لوگوں سے تنگ ہے اور انہیں مُجَنَسین اور مرتزقہ (جعلی شہریت یافتہ اور ٹوٹے کھانے والے نوکر) جیسے القاب سے نوازتی ہے۔مظاہرین میں سے ایک نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ  ’ان میں سے کچھ پولیس والے ایسے ہی جو عربی ہی نہیں بولتے اور نہ لوگوں کے لیے ان کے دل میں کوئی احترام ہے۔ انھیں احترام ہے تو بس اپنے آقاؤں کا۔‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

........

/110